بنگلورو،12؍نومبر(ایس اونیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے ہزار اور پانچ سو روپیوں کے نوٹوں کو سرکاری اداروں میں قبول کرنے کیلئے مزید تین دن کی مہلت دئے جانے کے ساتھ ہی برہت بنگلور مہانگر پالیکے نے اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے ان پرانے نوٹوں کو کل تک منظور کرنے کااعلان کیا ہے۔ساتھ ہی ان پرانے نوٹوں کے ذریعہ بجلی اور پانی کے بل بھی ادا کئے جاسکیں گے۔ برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر نے بتایاکہ آج ہی سے ساکنان شہر اپنے اثاثوں کا ٹیکس پرانے نوٹوں سے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ فوری طور پر ساکنان اپنے اپنے اے آر سی ڈویژنوں میں یا پھر بی بی ایم پی کے مرکزی دفتر میں پرانے نوٹوں سے اپنا اثاثہ ٹیکس ادا کرکے رسید حاصل کرسکتے ہیں۔ اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے پہلے چالان لے کر بینکوں سے رقم بھرنی پڑتی تھی، اس نظام کو اب سہل کردیا گیا ہے۔راست طور پرچالان کے ذریعہ بینکوں میں نقد ادا کرکے ہی اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی سے چھٹکارا پایا جاسکتاہے۔ بی بی ایم پی نے یہ سہولت 14؍ نومبر تک فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرانے نوٹوں کے ذریعہ اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کی بدولت ان نوٹوں کی پوری قیمت وصول ہوسکتی ہے۔مسٹر گنا شیکھر نے بتایا کہ پرانے نوٹوں سے پیشگی اثاثہ ٹیکس بھی ادا کیاجاسکتاہ ے۔ بی بی ایم پی کے افسران اور عملے کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پرانے نوٹوں کے ذریعہ بقایا اثاثہ ٹیکس اور پیشگی اثاثہ ٹیکس وصول کرنے میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ ڈالیں۔ انہوں نے کہاکہ رواں سال بی بی ایم پی نے 2400کروڑ روپیوں کے اثاثہ ٹیکسوں کی وصولی کا نشانہ مقرر کیا ہے، اچانک مرکزی حکومت کی طرف سے ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں پر پابندی پرانے نوٹوں کے ذریعہ اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کے نشانہ کو مکمل کرنے میں بی بی ایم پی کیلئے معاون ثابت ہورہی ہے۔